چینی سکول ’کچی محبت‘ کو کچلنے کے لیے سرگرم

china teenage love
china teenage love

حالیہ ہفتوں میں کئی چینی سیکنڈری سکولوں نے طالب علموں کے درمیان عشق و محبت کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے قوانین متعارف کروائے ہیں۔ تاہم ان قوانین پر چینی معاشرے کے مختلف طبقوں کی جانب سے اعتراضات کیے جا رہے ہیں۔ ریشم کی تجارت کے لیے مشہور شہر ہانگ ژو میں ایک سیکنڈری سکول کے طلبہ کو نئی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ انھیں صنفِ مخالف کے کسی بھی رکن سے لازمی طور پر ہمہ وقت آدھے میٹر کا فاصلہ رکھنا ہو گا، اور وہ سکول کے اندر جوڑوں کی شکل میں نہیں گھوم پھر سکتے۔ ژین جیانگ صوبے میں ایک اور سکول نے صنفِ مخالف کے ساتھ ساتھ ایک صنف سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے درمیان بھی ’قربت‘ پر پابندی لگا دی ہے۔ تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ’قربت‘ سے کیا مراد ہے۔ سکول کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ’سخت تادیبی کارروائی‘ کی جائے گی۔ سکولوں کا کہنا ہے کہ یہ وہ عمر ہے جس میں لڑکے اور لڑکیاں بلوغت کی پہلی سیڑھی پر ہوتے ہیں اور اس دوران ان کے جسموں میں ہارمون ہلچل مچا رہے ہوتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق چینی سکولوں میں طلبہ کے درمیان رومانس بڑھتا جا رہا ہے، اور سکولوں کی انتظامیہ اور طلبہ کے والدین کو تشویش ہے اس کی وجہ سے بچوں کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔ چین میں کم سنی کے رومان کو ’زاؤ لیان‘ کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے ’کچی محبت۔‘ سکولوں کی انتظامیہ اور شعبۂ تعلیم کے حکام نوجوانوں کو زاؤ لیان کے ’مضر اثرات‘ سے آگاہ کرنے کی مہم چلا رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے کئی ویب سائٹیں قائم کی گئی ہیں جن میں صنفِ مخالف کی کشش سے بچنے اور تعلیم پر توجہ مرکوز رکھنے کے طریقے بتائے جاتے ہیں۔

تاہم ژین جیانگ اور ہانگ ژو کے سکولوں کو انٹرنیٹ پر تند و تیز تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بہت سے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ قوانین ’وحشیانہ اور جابرانہ‘ ہیں۔ ایک پوسٹر نے لکھا: ’آپ لڑکوں اور لڑکیوں میں فاصلہ کیسے ناپیں گے؟‘ اسی دوران روایتی میڈیا بھی اس بحث میں کود پڑا ہے۔ چین کے سرکاری اخبار ’چائنا یوتھ ڈیلی‘ نے کہا کہ یہ قواعد ’فضول، مضحکہ خیز اور غیرقانونی‘ ہیں۔ اخبار لکھتا ہے: ’نوجوانوں کا ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہونا قدرتی عمل ہے۔ سکولوں میں عشق بازی کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے، لیکن اس مقصد کے لیے انتہائی جابرانہ طریقے استعمال کرنا ٹھیک نہیں ہے۔‘ شنگھائی میں ہائی سکول کی ایک طالبہ نے بی بی سی کو بتایا کہ سکولوں میں رومانس بہت عام ہو گیا ہے بہت سے طلبہ ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو رہے ہیں۔ تاہم انھوں نے کہا: ’یہ کوئی بری بات نہیں ہے کیوں کہ ان میں سے کچھ طلبہ سکول سے فارغ ہونے کے بعد شادی کر لیتے ہیں۔‘ بیجنگ کے ایک طالب علم نے کہا: ’اگر اس سے ان کی تعلیمی کارکردگی متاثر نہیں ہوتی تو طلبہ کے درمیان پیار محبت کوئی بری چیز نہیں ہے۔‘ نانجنگ یونیورسٹی کے ماہرِ تعلیم پروفیسر ژانگ یولنگ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ قواعد نہیں چلیں گے کیوں کہ چین میں اقدار بدل رہی ہیں اور جو پہلے ناقابلِ قبول تھا، اب اسے تسلیم کیا جانے لگا ہے: ’سکول طلبہ کے ساتھ قیدیوں جیسا سلوک کرتے ہیں، اور لوگ اس سے اتفاق نہیں کرتے۔‘ تاہم انھوں نے کہا کہ سکولوں کو طلبہ کو قابو میں رکھنے کی ضرورت ہے۔

Quadruple Kids Birth In Mianwali Pakistan

4 KIDS Birth In Mianwali Pakistan
4 KIDS Birth In Mianwali Pakistan

Thenewstranscribers Correspondent reported on friday that a woman gave birth four kids in District Head Quarter Hospital Mianwali.

The sources also reported that all four newborns are under observation into neonatal care unit, Doctors are satisfied about mother’s condition and  newcomers health.

Malnutrition Needs Attention In Pakistan: National Nutrition Survey

A portrate of Malnutrition
A portrate of Malnutrition

Globally nine million young kids pass away each year, nearly 19,000 daily, while in Pakistan 350,000 young kids die every year before their fifth birthday, and 35 per cent of these killings are due to malnutrition, said Iqbal Detho, the provincial supervisor advocacy and crusades of Save the Children, Sindh, at a seminar in Sukkur.
According to him, speaking to the dilemma of malnutrition was not only health but needs political and social help as well.
The seminar was coordinated by Save the Children’s EVERY ONE crusade, which was supported by study and Advocacy Fund and the provincial wellbeing department.
Seminar held for the betterment of newcomers too, the participants discussed the position of malnutrition in Sindh after the 2010 and 2011 floods and suggested that a collaboration of public and personal sector with the help of political parties and civil humanity, encompassing newspapers, could help curb the issue.
The speakers forced to develop an invironment further that apart from making laws and principles, we need to aim on social taboos that prevail amidst the society about progeny being weak by nature and other such convictions.
Published September 28th, 2013.

The outcome of the NNS-2011, launched in collaboration with the Ministry of nationwide wellbeing Services, guidelines and Coordination, disclose that 58.1 per cent of families are food insecure and only three per cent of children obtain a diet that meets the smallest measures of required diet. How ashamed nation we are that Just three countries on the map for half of malnourished women and young kids globally and Pakistan is one of them, asserted the report. “Major components leading to chronic malnutrition in the country are scarcity, high illiteracy rates amidst mothers and nourishment insecurity.”
although, the outcome of the NNS 2011 show a minor enhancement since 2001 in terms of centre maternal and childhood nutrition signs which have profound effect on children’s immunity, growth and mental development.

Malnutrition in pakistan

malnutrition.j1pg

 

malnutrition4

 

 

Malnutrition in pakistan
Malnutrition in pakistan